Home » urdu articles
رخصت اف اوارن سنگت




تنہاءی میں بیٹھ کر ایک کونے میں اس شخص کے بارے میں سوچ رہا تھا جوجاتے وقت کہتا تھا کہ "رخصت اف اوار ان سنگت" لیکن وہ رخصت کیے بغیر ہمیشہ کے لیے کچھ اس ادا سے بچھڑ گیا کے رت ہی بدل گءی ، وہ شخص ایک پورے کارواں کو ایک قوم کو اداس کر گیا ۔ دل میں ان کی جداءی پر ایک چھبن سی محسوس ہورہی تھی یادوں کی سمندر میں غوطہ زن ہو گیا ان کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد آیا ، جب ہم مایوس ہوتے تو وہ ہمیں بٹھاتے اور سیاہ چاءے کی پیالی تھماتے اور امید بندھاتے ، ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہوگیا ہو ، کون اس کی جگہ لے گا؟ دل ہی دل میں خود سے سوال کیا تب خود ہی برجستہ دل بیقرار کو خود جواب دیا کے کوءی نہیں اس کی جگہ لے سکتا ۔ کہاں سے ڈھونڈ کر لاءے گے ہم تجھے اب ؟

اسی سوچ میں غلطاں تھے کہ ان کی آواز اچانک کانوں سے ٹکراءی کے رخصت اف اوارن سنگت ۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے درد کے جس کا پیمانہ نہ تھا جداءی کے احساس کا دکھ جو مسلسل طویل ہوتا جارہا تھا۔

ایک مرتبہ پھر وہی آواز سناءی دی گویا وہی شخص مجھ سے مخاطب ہو مگر کیسے وہ تو بچھڑ چکا ہے لیکن کہتے ہیں کہ جو لوگ ایک مقصد کے لیے جان دیتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے بلکہ وہ ہر جگہ اپنے عظیم مقصد کے ساتھ آپ کو ملتے ہیں ۔ لیکن یوں لگا کہ شاید میں اس انسان کے بارے میں مسلسل سوچ رہا ہوں اسی لیے ان کی آواز مجھے سناءی دے رہی ہے یہ میرا وہم ہے ۔

لیکن پھر وہی آواز سناءی دی نرم لہجے میں کہ " غم کپبو زیبا منزل خڑک ء" ۔

تب برجستہ کہا کے سنگت کہاں ہو آپ ایک ایسے وقت میں ہمیں چھوڑ کر چلے گءے جب آپ کی ہمیں سخت ضرورت تھی ۔

تب ایک سرد آہ بھری اور کہا سنگت اس سے زیادہ ایک انسان کی خواہش کیا ہوتی ہے کہ وہ اپنے قوم کی آزادی کے لیے جدوجہد کرے اور اپنے وطن کو آزاد ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے لیکن جیسے کے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس راہ کا ہم نے انتخاب کیا ہے وہاں ہر وقت موت سے بغل گیر رہنے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے اور موت تو ایک تلخ حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے بلکہ زندگی اپنے قوم کے لیے اگر گذارے انسان تو پھر اسے بخوشی موت کو گلے سے لگانا چاہیے کیونکہ اس نے جو زندگی گذاری وہ فضول نہیں گذاری بلکہ ایک فکر کے تحت ایک مقصد کے لیے ، انسان کے سر کو قلم کرکے زندہ خیالوں کو نہیں مارا جاسکتا ۔ پھر ہمیں چے گویرا کے یہ الفاظ بھی اچھی طرح یاد ہیں کہ موت ہمیں جہاں بھی آلے ہم اس کا مسکرا کر



استقبال کریں بشرطیکہ ہمارے مقصد کو آگے لے جانے کے لیے دیگر ساتھی موجود ہوں ۔

پھر شہیدوں کے خون سے روشنی کی جو سوتیں پھوٹتی ہیں وہ پورے قوم کے لیے راہیں روشن کردیتی ہے اور شہید کی قربانیوں کو تمام عمر یاد رکھا جاتا ہے۔ ان کی سنجیدگی اور شعور پر فخر کیا جاتا ہے ان کا عمل تجربے کی صورت میں آنے والی نسلوں کی رہنماءی کرتا رہے گا اور شہیدوں کی قربانیاں انہیں اس منزل کی جانب قدم بڑھانے پر مجبور کریں گی جسے آزادی

کہتے ہیں ۔



پھر وہ خاموش ہوگءے ، پوچھا بتاءو کیسا ہے میرا بلوچ کیسا ہے میرا بلوچستان ؟ وطن کی جڑی بوٹیوں سے لے کر قوم کے ہرفرد کا خاص خیال رکھنا اور خیال رکھنا کے ان کو کوءی ستاءے نہیں ۔

آج ایک سخت گھڑی قوم پر آءی ہے تکالیف اور دکھوں کا شکار ہیں لیکن یہ دن بدلے گے اور عظیم بلوچ قوم کے عظیم نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا اس قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہوگی تحریک میں اپنا سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا ، شعور کے ساتھ پختگی کے ساتھ ایک قوم بننے کا احساس جو پیدا ہوا ہے اسے عملی شکل دینا ہوگا اور جب ہم ایک قوم کی حیثیت سے لڑیں گے تو پھر فتح ہماری ہوگی اور یہی تو شہیدوں کے ارمانوں کی تکمیل ہے ۔

تب میں نے پوچھا کے بابو لیکن قوم تو تقسیم در تقسیم کا شکار ہے ؟

تب ایک سرد آہ بھری اور گویا ہوءے کہ

گروہانہ سوچ اس قدر حاوی ہوچکی ہے کہ ایک قوم بننے کے احساس کو فروغ دینے کی بجاءے ہم اس قوم کے زخمی وجود پر مزید وار کر رہے ہیں اور دشمن کو یہ موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ آءے اور ہمیں مزید نقصان پہنچاءے ۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہمیں ایک قوم بننا ہے۔ جب بھی کچھ ساتھی لیڈر پرستی او شخصیت پرستی کا شکار ہوکر کہتے کہ عطا اللہ مینگل و میر غوث بخش بزنجو غدار ہے تب میں بالکل اکتا جاتا اور کہتا کہ اگر ہم مخلص ہے تو پہلے ہمیں اپنے عمل کا جاءزہ لینا چاہیے کہ ہم بلوچ قوم کے لیے کیا کر رہے ہیں اگر ہم مخلص ہیں تو ہمیں قوم کے مفاد میں جدوجہد کرنی چاہیے ہر وہ ذریعہ اپنا نا چاہیے جو ہمیں ایک قوم بناتا ہے جو ہمیں آزادی دلاتا ہے ، کون غدار ہے اور کون مخلص یہ فیصلہ تاریخ کرے گی بلوچ قوم کرے گی اگر ہم نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنے فکری اور علاقاءی مخالفین کو غدار قرار دینے میں صرف کردی تو پھر ہم خود نہ صرف بلوچ تحریک کو بلکہ بلوچ قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گے ۔ ہاں اگر کوءی بلوچ قومی مفاد کے سامنے بالکل کھڑا ہوجاتا ہے تو پھر بلوچ تنظیمیں موجود ہیں اور وہ مکمل تحقیق اور ثبوت کے ساتھ ان کے خلاف کارواءی کا حق رکھتی ہیں لیکن کسی کو غدار قرار دینا انفرادی خواہش یا فکری اختلاف نہیں ہونا چاہیے ۔

آج کا وقت تقاضہ کر رہا ہے کہ ایک قوم بن کر جدوجہد کی جاءے اب تک ہم گروہوں میں تقسیم ہیں اور اس مرحلے تک ہم اپنی شعور اپنی جدوجہد اپنی قربانیوں اپنی کامیابیوں اپنی غلطیوں کی بدولت پہنچے ہیں ۔ ہمیں کسی چیز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ تمام چیزوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوءے قوم کو متحد کرتے ہوءے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے ہمیں اپنی غلطیوں کو قطعاً نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ہمیں اپنی غلطیوں کو زیادہ سے زیادہ زیر بحث رکھنا چاہیے تاکہ ان غلطیوں کو رفع کیا جاءے ان سے سیکھا جاءے اور ان کو دہرایا نہیں جاءے آزادی حاصل کرنے کی راہ میں حاءل سب سے بڑی رکاوٹ اس کی کمزوریاں ہوتی ہیں اور تقسیم در تقسیم رہنا سب سے بڑی کمزوری ہے ۔

شمالی وزیرستان:ڈرون حملے میں پانچ ہلاک

شمالی وزیرستان:ڈرون حملے میں پانچ ہلاک

ڈرون
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میر علی سے چھ کلومیٹر دور خوشحال کے علاقے میں امریکی جاسوس طیاروں نے چار میزائل فائر کیے۔
ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ خوشحال کے گاؤں خئی سورا میں ہوا جس میں ایک گاڑی اور ایک دکان کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دو امریکی جاسوس طیاروں نے چار میزائل داغے جن میں سے دو گاڑی پر لگے اور دو میزائل دکان پر۔
اہلکار کے مطابق گاڑی میں موجود پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کے پانچوں افراد شدت پسند تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیرملکی بھی شامل تھا یا نہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد کہ شدت پسند یورپی شہروں پر ممبئی کی طرز کے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ ان حملوں کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔
تاہم پاکستان نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے دائرے کو بڑھانا کسی طور پر پاکستان کو قابلِ قبول نہیں ہے اور یہ حملے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔

نتہاؤں کی دنیاi

نتہاؤں کی دنیا ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن کوریج پر مشتمل بی بی سی کا ایک نیا سیزن ہے جس میں ان عالمی مسائل کا تجزیہ کیا جائے گا جو ہمیں تقسیم کرتے ہیں۔
آئندہ چند ماہ کے دوران بی بی سی کے نامہ نگار آٹھ ایسے کلیدی موضوعات یا ’تھیمز‘ کا جائزہ لیں گے جو ہماری دنیا میں موجود تضاد کو بیان کرتے ہیں۔
پہلے تھیم کلِک گرمی/سردی کے لیے بی بی سی نیوز کے نمائندے ایڈم مائنوٹ روس کے سائبیرین خطے میں واقع گاؤں اوئمیاکون کا دورہ کریں گے۔ یہ دنیا کی سب سے سرد آباد جگہ ہے۔

اوئمیاکون میں جنوری کے مہینے میں اوسط درجۂ حرارت منفی چھیالیس درجہ سنٹی گریڈ ہوتا ہے اور یہاں فراسٹ بائٹ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ تاہم یہ علاقہ سونے اور ہیروں کے ذخائر سے مالامال ہے اور روس اب دنیا کے ان چند بڑے ممالک میں سے ہے جہاں ہیرے نکالے جاتے ہیں۔
دوسری قسط عالمی کلِک کرپشن کے بارے میں ایک تجزیہ ہے جس میں صومالیہ اور سویڈن دو مختلف انتہاؤں پر ہیں۔
بی بی سی کی پاسکل ہارٹر اس بات کی تحقیق کریں گی کہ سویڈن میں جس کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے، کیا حقیقت وہی ہے جو دکھائی دیتی ہے۔
آنے والے مہینوں میں جو موضوعات سامنے آئیں گے ان میں کلِک ہلاکتیں، کلِک جرائم، کلِک تعلیم، کلِک کاروبار، کلِک آلودگی اور کلِک خدا شامل ہیں۔
تصاویر کے لیے اے پی، اے ایف پی، گیٹی، میگنم، پانوس اور رائٹرز نے تعاون کیا ہے۔

پاکستان میں تحریک طالبان

پاکستان میں تحریک طالبان کی کاروائیوں سے جس قدر خطرہ ملک کے ریاستی ڈھانچے کو ہے اتنا ہی ان معتدل مذہبی قوتوں کو بھی ہے جو اپنا مذہبی ایجنڈا آمریت سے اتحاد کی بجائے جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت علماء اسلام کا شمار پاکستان میں جمہوریت پسند مذہبی قوتوں میں سرفہرست تھا۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سن دو ہزار دو میں متحدہ مجلس عمل کے قیام اور انتخابات میں ملک کے شمالی صوبے میں اس کی واضح اکثریت میں پاکستان کی فوجی قیادت کا بڑا ہاتھ تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن بی بی سی کے بش ہاؤس سٹوڈیو میں
اُس وقت پاکستان میں قومی سلامتی کے کرتا دھرتا اس دلیل کے قائل نظر آتے تھے کہ طالبان کا راستہ روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ معتدل مذہبی قوتوں کی قومی جمہوری دھارے میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یوں یہ قوتیں خود طالبان کی ’آمرانہ اور جابر سوچ‘ کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی تھیں۔
لیکن اس تجزیے کے خالق کرداروں نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب معتدل مذہبی قوتیں بھی طالبان کے سامنے اٹھ کھڑی ہونے کو تیار ہونگی۔ مشرف دور میں وفاق اور صوبوں میں کام کرنے والی منتخب مذہبی جماعتوں نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ثابت کر دیا کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے یا حکومت سے باہر کسی بھی طور پر کھلم کھلا طالبان سے ٹکر لینے پر ہرگز تیار نہیں۔
طالبان کی جانب پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی اس پالیسی کی ایک واضح مثال جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ اس انٹرویو میں طالبان سے مقابلہ تو دور کی بات، مولانا ان کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔۔۔

بی بی سی اردو کے موبائل بلیٹن

بی بی سی اردو کے موبائل بلیٹن

بی بی سی اردو سروس نے یکم نومبر سے پاکستان میں تمام موبائل فونز پر ایک منٹ کا نیوز بلیٹن شروع کیا ہے جو ہر گھنٹے کے آغاز پر آ رہا ہے۔
ایک منٹ کے یہ بلیٹنز صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک سنے جا سکتے ہیں۔
کلِک بی بی سی اردو کے نیوز اور سپورٹس بلیٹنز
ان موبائل بلیٹنز کو سننے کے لیے آپ کو اپنے موبائل سے 74 74 44 پر فون کرنا ہوگا۔
بی بی سی اپنے تازہ ترین بلیٹنز آپ کے موبائل فون پر خواہ وہ کسی بھی نیٹ ورک پر ہو فراہم کر رہا ہے۔ برائے مہربانی اپنے موبائل فون نیٹ ورک آپریٹر سے ممکنہ اضافی چارجز کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

تصاویر: گھانا کے انوکھے تابوت

تصاویر: گھانا کے انوکھے تابوت


گھانا کے باشندے اپنے مردوں کے لیے شاندار تابوت بنانے کے
لیے جانے جاتے ہیں۔تصویر میں دکھایا جانے والا یہ تابوت
ایک قبیلے کے سربراہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان تابوتوں کی نمائش لندن کی جیک بیل گیلری میں جاری ہے۔

افغان سکیورٹی میں دوگنا اضافے کی تجویز

افغان سکیورٹی میں دوگنا اضافے کی تجویز

پولیس اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب کر دی جائے گی
امریکہ میں نئی انتظامیہ افغانستان میں امن اور استحکام بحال کرنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی تعداد دگنی کرنے کے بارے میں ایک تجویز پر غور کر رہی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ زیرِغور تجویز میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد کو چار لاکھ کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
صدر براک اوباما طالبان کے خلاف جنگ کی نئی حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے اس سال اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیا تھا۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر اوباما متوقع طور پر افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان چند روز میں کر دیں گے۔
تاہم افغانستان میں فوج اور پولیس کی تعداد میں اضافے کے لیے درکار رقم کے بارے میں تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سکیورٹی فورسز کی تعداد کو دگنا کرنے کے لیے اگلے چھ سات برسوں میں دس ارب ڈالر سے بیس ارب ڈالر تک درکا ہوں گے۔
اخبارنے ایک اعلی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ نئے منصوبے کے تحت افغان فوج کی تعداد دو لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب کر دی جائے گی جبکہ پولیس اہلکاروں اور افسروں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے پولیس اور فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے لیکن طالبان بہرحال ایک بڑا خطرہ ہیں۔
امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اس پالیسی پر تفصیلی سے بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ انہیں افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں کئی وجوہات کی بنا پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہو سکتا ہے افغان ہمیں اپنے اتحادی اور مدد کار کی بجائے اس مسئلہ کی وجہ تصور کرنا شروع کر دیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک اور سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ اس منصوبے میں ’سویلین سرج‘ یا افغانستان میں امریکی سویلین حکام کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ ملک میں طالبان کی شورش کو نمٹایا جا سکے۔

آنے والا وقت مشکل ہے: اوباما

آنے والا وقت مشکل ہے: اوباما

امریکی صدر اوباما
صدر اوباما کا طیارہ بگرام پر اترا
امریکہ کے صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں با معنی پیش رفت کے باوجود افغانستان میں آنے والا وقت مشکل ہوگا۔
یہ بات انہوں نے افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران بگرام کے ہوائی اڈے پر امریکی فوجوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امریکی صدر افغانستان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت کررہے ہیں جب وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما کی نیشنل سکیورٹی ٹیم نے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد میں اضافے کے بعد افغان پالیسی کا جائزہ لیا ہے اور اب وہ اس سے متعلق رپورٹ جاری کرنے والی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے ملک کے فوجیوں سے کہا کہ وہ کامیاب ہوں گے۔ ’یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ پیش رفت بہت آہستہ ہوتی ہے۔ آنے والا وقت اور مشکل ہے۔ کامیابی کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے طبلِ جنگ پر لبیک کہا ہے۔‘
امریکی صدر براک اوباما کا افغانستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے پہلے وہ مارچ کے مہینے میں افغانستان آئے تھے۔ انہوں نے امریکی فوج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان پسپا ہورہے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں اتحادی فوجیں ایک اہم ذمہ داری نبھارہی ہیں۔ ’دنیا کا یہ حصہ عالمی کوششوں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ہم القاعدہ کو منتشر، غیرمحفوظ اور شکست سے دوچار کرنے والے ہیں، اور ان کے شدت پسند ساتھیوں کو بھی، اور اِسی لیے آپ یہاں پر ہیں، اور اِسی لیے آپ کا مشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسی لیے آپ کو کامیاب ہونا ہے۔ کیونکہ یہ کوشش اپنے ملک میں بسنے والے لوگوں کی حفاظت اور افغان عوام کی عظمت کے لیے ہے، جو استبداد میں رہتے ہوئے زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔‘
ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ کانگریس کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں اور جھڑپوں میں، سنہ دوہزار سات کے مقابلے میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف پیش رفت ناہموار ہے۔
توقع ہے کہ امریکی صدر اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی سے ملاقات کے دوران افغانستان کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔ تاہم وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے امریکی صدر کابل نہ جاسکیں اور وہ حامد کرزئی سے فون پر ہی بات کریں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے افغان اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہے۔ صدر حامد کرزئی، امریکی فوجی حکمتِ عملی کے بارے میں شکایت کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے اگلے سال جولائی سے امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

افغانستان: مزاحمت کی حمایت میں اضافہ

افغانستان: مزاحمت کی حمایت میں اضافہ

2010 افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے
ایک جائزے کے مطابق سنہ 2005 کے مقابلے میں اب زیادہ افغان آبادی غیر ملکی افواج پر حملوں کے حق میں ہے۔
اس سروے کے مطابق اب ستائیس فیصد عوام کا خیال ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج پر حملے جائز ہیں تاہم چونسٹھ فیصد اب بھی اس کے مخالف ہیں۔
بی بی سی اور دیگر نیوز گروپس کے لیے کیے گئے اس سروے میں سترہ سو کے قریب افغان باشندوں کی رائے لی گئی جن کے خیال میں ملکی معیشت ان کے اس وقت افغانستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔
سروے کے مطابق افغان عوام اب بھی طالبان کو پسند نہیں کرتے تاہم تہتر فیصد عوام ان سے بات چیت کے ذریعے تصفیے کے حق میں ہیں۔ اس کے برعکس تیئیس فیصد عوام اب بھی طالبان سے جنگ کے حق میں ہیں اور گزشتہ چند برس سے یہ شرح مستحکم رہی ہے۔
افغان عوام اب بھی طالبان کو پسند نہیں کرتے تاہم تہتر فیصد عوام ان سے بات چیت کے ذریعے تصفیے کے حق میں ہیں۔
یہ قومی سروے افغانستان کے ’سنٹر فار سوشیو اکنامک اینڈ اوپینئن ریسرچ‘ نے انتیس اکتوبر سے تیرہ نومبر 2010 کے درمیان کیا۔
اس کے مطابق رشوت ستانی کے الزامات اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے صدارتی انتخاب پر تنقید کے باوجود افغان صدر حامد کرزئی کی حمایت میں فرق نہیں پڑا ہے۔ باسٹھ فیصد افراد نے افغان رہنماؤں کو اچھی یا بہترین قرار دیا جبکہ سنہ 2009 میں یہ شرح بہّتر اور 2008 میں باون فیصد تھی۔
اس سروے کے مطابق افغان باشندے گزشتہ برس کے مقابلے میں مستقبل کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں اور اس برس آنے والے سالوں میں بہتر زندگی کی امید کرنے والے افغانوں کی شرح پینسٹھ فیصد رہی جبکہ گزشتہ برس یہ شرح اکہتر فیصد تھی۔
ملک کے صحیح سمت میں جانے کے سوال پر بھی افغان باشندے مایوسی کا شکار دکھائی دیے اورگزشتہ برس کے ستّر فیصد کے مقابلے میں اس برس انسٹھ فیصد افغان عوام کے نزدیک ملک صحیح سمت میں گامزن ہے۔
سروے کے دوران تشدد میں اضافے کے لیے امریکی افواج کو ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح میں نو فیصد کا اضافہ ہوا اور اب یہ شرح چودہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس طالبان کو ہلاکتوں کا ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح بیالیس فیصد سے کم ہو کر تینتیس فیصد رہ گئی ہے۔
رواں سال افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے لیے سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے جبکہ ساتھ ساتھ شہری ہلاکتوں کی شرح بھی زیادہ رہی ہے۔
سروے کے دوران تشدد میں اضافے کے لیے امریکی افواج کو ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح میں نو فیصد کا اضافہ ہوا اور اب یہ شرح چودہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس طالبان کو ہلاکتوں کا ذمہ دار سمجھنے والے افراد کی شرح بیالیس فیصد سے کم ہو کر تینتیس فیصد رہ گئی ہے۔
تاہم افغانستان میں غیر ملکی افواج کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی موجود ہے اور تریسٹھ فیصد عوام افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی اور چوّن فیصد نیٹو اور ایساف کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس صرف گیارہ فیصد عوام طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

اغوا کرنے والے عرب معلوم ہوتے تھے

’اغوا کرنے والے عرب معلوم ہوتے تھے‘

عبدل خالق فراحی
عبدل خالق فراحی دو سال اور دو ماہ تک مغوی رہے
پشاور سے کلِک اغوا ہونے اور دو سال تک مغوی رہنے والے سابق افغان قونصل جنرل عبدل خالق فراحی نے افغان ٹیلی ویژن پر ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ ان کو اٹھانے والے فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور ان لوگوں کے کمانڈر اور سینئیر اہلکار عرب معلوم ہوتے تھے۔
عبد الخالق فراحی کو ستمبر 2008 میں پشاور سے اغوا کیا گیا تھا اور انہیں گزشتہ ماہ افغانستان کے صوبہ خوست میں افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔
رہائی کے بعد سفارتکار نے افغانستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تئیس نومبر کو نشر ہونے والے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے اغواء اور حراست کی تفصیل بتائی۔
جب وہ اندر آتے تھے تو وہ نقاب پوش تھے۔میں نے ان کے چہرے نہیں دیکھے۔ وہ القاعدہ کے تھے، غیر ملکی تھے۔ مجھ سے انگریزی میں بات کرتے تھے۔ تمام گارڈ عرب تھے، شاید مراکش سے تھے
عبد الخالق فراحی نے بتایا کہ اکیس ستمبر 2008 کو وہ ایک بجے کے قریب اپنے دفتر اٹھے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا اور دفتر کے اوقات ایک بجے تک ہی تھے۔
’جب میں دفتر سے نکلاہوں تو حیات آباد کے تین نمبر فیز میں ایک ٹویوٹا سیڈان ہماری طرف آئی اور ہماری گاڑی سے ٹکرانے والی تھی۔ ڈرائیور نے گاڑی بچا لی۔ میں نے اسے احتیاط سےگاڑی چلانے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ’میرا قصور نہیں تھا ، وہ ہماری گاڑی سے ٹکرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ یہ بول ہی رہا تھا کہ اس ٹویوٹا سیڈان نے ہماری گاڑی کو مار کر اسے سائڈ کی سڑک پر رکوا دیا۔‘
’فوج کی وردیوں میں ملبوس پانچ یا چھ لوگ اس ٹویوٹا سے کود کر ہماری طرف آئے۔ ڈرائیور گاڑی سے نکلا تو شاید سمجھے کہ وہ میں ہوں کیونکہ اس نے سوٹ پہن رکھا تھا۔ لیکن پھر انہوں نے مجھے پیچھے بیٹھے ہوئے دیکھا تو انہوں نے میرے ہاتھ پیر پکڑ کر اپنی گاڑی میں منتقل کر دیا۔ پہلے میں سمجھا کہ یہ فوجی اہلکار ہیں لیکن پھر میں نے غور کیا کہ انہوں اپنے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دہشت گرد ہیں‘۔
’میں نے اپنے ڈرائیور کو آخری مرتبہ دیکھا تو وہ فون ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر مجھے گولیاں چلنے کی آؤاز آئی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے اسے شہید کر دیا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے۔‘
’اغواکاروں نے مجھ سے میری گھڑی اور میرا بٹوہ لے لیا۔ میری جیبیں خالی کروائیں۔ ٹکر کی وجہ سے گاڑی میں کوئی مسئلہ ہو گیا تھا تو وہ صحیح نہیں چل رہی تھی۔ انہوں نے آپس میں بات کی کہ ’دوسری گاڑی میں ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ آجائیں‘۔ لیکن پھر گاڑی ٹھیک ہو گئی۔ گاڑی رِنگ روڈ پر پندرہ بیس منٹ تک چلتی گئی، اور پُل والے چوراہے پر پہنچی۔‘

انٹرویو کرنے والے ٹی وی صحافی نے عبدالخالق فراحی سے پوچھا کہ کیا آپ دیکھ سکتے تھے کہ وہ آپ کو کہاں لے جا رہے تھے؟

’رنگ روڈ پر پُل تک میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ لیکن پُل کے بعد انہوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ میں ان سے پوچھ رہا تھا تم کون ہو؟ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ جس پر وہ غصہ ہو گئے، مجھے رائفل کے بٹ سے مارا اور پھر آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ لیکن پُل تک میں دیکھ سکتا تھا۔ گاڑی کے کالے شیشے تھے، پولیس سڑک کے پاس کھڑی تھی لیکن انہوں نے اس گاڑی پر کوئی توجہ نہیں دی۔
میں نے اپنے ڈرائیور کو آخری مرتبہ دیکھا تو وہ فون ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر مجھے گولیاں چلنے کی آؤاز آئی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں اسے شہید کر دیا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے
’پھر پُل کے بعد ایسا لگا کہ پندرہ بیس منٹ تک چلتے گئے اور ایک اور چوراہے پر آئے۔ پھر مجھے ایک دوسری گاڑی میں منتقل کر دیا گیا۔ وہ چھوٹی گاڑی تھی، مجھے اس میں بیٹھتے ہوئے سر کافی بچانا پڑا۔ پھر انہوں نےگاڑی کو لے جا کر اندر کسی جگہ کھڑا کر دیا جو کہ مجھے لگا کہ مسجد یا مدرسہ ہے۔ ہم وہاں تین دن رکے۔ پھر فجر سے پہلے وہ مجھے کہیں اور لے گئے۔ وہ بھی شاید مدرسہ یا مسجد تھی۔ وہ مجھے دوسری منزل پر ایک کمرے میں گھسیٹ کر لے گئے۔ میرے ہاتھوں پر ہتھکڑیاں تھیں اور پیروں پر بیڑیاں۔ اس کمرے میں مجھے تین دن تک بند رکھا گیا۔ پھر شاید عید کا پہلا دن تھا کہ وہ مجھے اور آگے لے گئے۔ تقریباً تیرہ گھنٹے کے سفر کے بعد کہیں اور پہنچے۔ میرا خیال ہے کہ وہ مجھے جنوبی وزیرستان لے گئے۔

آپ کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا گیا؟

دوران حراست انہوں نے میری جگہ سترہ مرتبہ بدلی۔ میں دو سال اور دو ماہ تک ان کی حراست میں رہا۔ پہلے چھ مہینوں میں انہوں نے مجھ پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا۔ وہ لوگ بار بار مجھ پر الزام لگاتے کہ تم امریکہ کے لیے کام کرتے ہو یا تم امریکیوں کو افغانستان لے کر آگئے ہو، وہ کہتے تھے کہ تم امریکی ایجنٹ ہو، تم منحرف ہو، تم کو مارنا تو جائز ہے۔
وہ رات کو پیروں پر بیڑیاں لگا دیتے تھے لیکن دن کے وقت کھول دیتے۔ کھانا اچھا دیتے تھے۔ جو وہ کھاتے وہ ہی مجھے کھلاتے۔کمرے کے اندر آنکھوں پر پٹی بھی نہیں باندھتے تھے۔
جب وہ اندر آتے تھے تو وہ نقاب پوش تھے۔وہ القاعدہ کے غیر ملکی تھے۔ مجھ سے انگریزی میں بات کرتے تھے۔ تمام گارڈ عرب تھے، شاید مراکش سے تھے۔
دوران حراست انہوں نے میری جگہ سترہ مرتبہ بدلی۔ میں دو سال اور دو ماہ تک ان کی حراست میں رہا۔ پہلے چھ مہینوں میں انہوں نے مجھ پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا۔ وہ لوگ بار بار مجھ پر الزام لگاتے کہ تم امریکہ کے لیے کام کرتے ہو یا تم امریکیوں کو افغانستان لے کر آگئے ہو۔
’انہیں مجھ سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کی یہ ڈیوٹی تھی کہ مجھے چائے اور کھانا دیں۔ میں انہیں اپنی ضروریات کا انگریزی میں بتاتا تھا۔ان کے لیڈر بھی عرب ہی تھے۔

کیا آپ کو ٹی وی دیکھنے یا ریڈو سننے دیا جاتا تھا؟

نہیں۔ لیکن آخری پانچ ماہ میں انہوں نےمجھے ایک چھوٹا سا ریڈیو دے دیا ۔پہلے ڈیڑھ سال میں مجھے کچھ نہیں معلوم ہو سکا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔

آپ اس ہی روز اغوا ہوئے تھے جس روز آپ کو اسلام آباد میں افغان سفیر نامز کیا گیا تھا۔ کیا وہاں سکیورٹی ناکافی تھی؟

پاکستانی حکومت سفارتی دفاتر اور رہائش گاہوں کے لیے گارڈز دیتی ہے۔ دفتر پر ہمیں پانچ چھ پولیس گارڈ ملے ہوئے تھے، سفارتی رہائش گاہ پر چار گارڈ تھے۔ لیکن ہمارے ساتھ چلنے والے کوئی گارڈ یا ایسکارٹ نہیں تھا۔

رہائی سے عین پہلے آپ کو کس جگہ رکھا گیا تھا؟

میرا خیال ہے کہ وہ پاکستانی سرحد کے قریب تھا۔ صوبہ خوست میں مجھے افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

مہمند میں دو خودکش دھماکے

مہمند میں دو خودکش دھماکے، چالیس افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر کے باہر دو خودکش دھماکوں میں چالیس افراد ہلاک جبکہ ستر کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔
مہمند ایجنسی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے مہمند ایجنسی کے علاقے غلنئی میں واقع پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کے باہر ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ دو حملہ آوروں میں سے ایک نے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دوسرے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گیٹ پر روکا جہاں اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔
کلِک مہمند میں خودکش دھماکے: تصاویر
ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ پولیٹیکل ایجنٹ مہمند ایجنسی امجد علی خان نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں حملہ آوروں نے خاصہ داروں کی یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ بارودی مواد کے ساتھ چھروں کی بجائے گولیاں ڈالی گئی تھیں اور یہ گولی جس کو لگی ہے وہ موقع پر ہلاک ہوا ہے۔
دونوں حملہ آوروں نے خاصہ داروں کی یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ بارودی مواد کے ساتھ چھروں کی بجائے گولیاں ڈالی گئی تھیں اور یہ گولی جس کو لگی ہے وہ موقع پر ہلاک ہوا ہے۔
مہمند پولیٹیکل ایجنٹ
انھوں نے کہا کہ یہ حملہ دوپہر دو بجے کیا گیا ہے اور اس وقت مقامی قبائل کا ایک جرگہ ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں روایات کے مطابق ہر ایک کی جامہ تلاشی لینا مشکل کام ہے ۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو صحافی اور دو قبائلی رہنما شامل ہیں جبکہ ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ زخمی ہوئے ہیں۔
دریں اثنا تحریک طالبان پاکستان کے مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی چند ماہ پہلے ان کے عرب ساتھیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن اور ان کی گرفتاری کے خلاف کی گئی ہے۔
یاد رہے چند روز پہلے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے حملے جاری رہیں گے۔
دھماکے کے فوری بعد ایک سرکاری افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے بیس سے پچیس افراد کو گرے ہوئے دیکھا لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے یا زخمی۔
تحریک طالبان پاکستان کے مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی چند ماہ پہلے ان کے عرب ساتھیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن اور ان کی گرفتاری کے خلاف کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ پہلے دھماکے میں اتنا نقصان نہیں ہوا لیکن دوسرے دھماکے میں نقصان زیادہ ہوا کیونکہ اس وقت بھگدڑ مچی ہوئی تھی اور لوگ گیٹ کی طرف ہی بھاگ رہے تھے ۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے کوئی تیس افراد کو پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا ہے۔ صوبہ خیبر پختوخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ہسپتال کے دورے کے دوران صحافیوں سے ات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں لیکن جب تک افغانستان میں نیٹو اور افغان فوسرز دت پسندوں کا خاتمہ ہ کردین اور یہاں پاکستان ان شدت پسندوں کا خاتمہ نہ کرے تب تک دہشت گردی تم نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کی وجہ سے اس طرح کے واقعات کو روکنا مشکل ہے۔
میاں افتار حسین نے کہا کہ ملک کی بہتر صورتحال کا حل نکالنا ضروری ہے وگرنہ پیشن گوئی یہی ہے کہ یہ سلسلہ چودہ سالوں تک جاری رہے گا اور ان چودہ سالوں میں پھر کیا حال ہوگا اللہ بہترجانا ہے۔
آج صبح کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پچاسی فیصد قبائلی علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت ان دنوں مہمند ایجنسی میں حالات زیادہ کشیدہ بتائے گئے ہیں جہاں سکولوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات آئے روز موصول ہوتی رہتی ہیں۔
یاد رہے اس سال اگست کے مہینے میں ایک خود کش دھماکے میں ایک سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ نے کہا ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ ایسی معلومات سے اس کے سفارتکاروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ اوباما انتظامیہ مستقبل میں ایسی خفیہ معلومات کی اشاعت رکوانے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے۔ سرکاری ایجینسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ خفیہ معلومات تک تمام عملے کی رسائی ممکن نہ ہو اور عملے کو صرف وہ ہی دستاویز فراہم کی جائیں جو اُن کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہو۔
محکمہ دفاع ’ پینٹا گون‘ کا کہنا ہے کہ کہ مستقبل میں معلومات کی لیک کو روکنے کے لیے کمپوٹر نظام کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
ان معلومات میں سے پندرہ ہزار چھ سو باون کو خفیہ معلومات کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اب تک وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر دو سو بیس پیغامات شائع کیے ہیں جبکہ ویب سائٹ کی جانب سے نیویارک ٹائمز اور گارڈین سمیت پانچ میڈیا گروپس کو پہلے ہی تمام پیغامات کی نقول فراہم کر دی گئی ہیں۔
برطانیہ کا بھی کہنا ہے کہ ان فائلوں کی اشاعت قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان معلومات کا افشا کیا جانا ایک ’لاپرواہی‘ تھی اور اس سے سفارتکاروں اور دیگر افراد کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کے ایک ری پبلکن رکن نے وکی لیکس کو ’دہشتگرد تنظیم‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ’اس قسم کے انکشافات ہمارے سفارتکاروں، خفیہ اہلکاروں اور ایسے افراد کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں جو جمہوریت کے فروغ میں مدد دینے کے لیے امریکہ آتے ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’صدر اوباما امریکہ اور دنیا بھر میں ذمہ دار اور قابلِ مواخذہ حکومتوں کے حامی ہیں لیکن یہ لاپرواہ اور خطرناک اقدامات اس مقصد کے مخالف ہیں‘۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے رکن پیٹر کنگ نے کہا ہے کہ تازہ انکشافات وکی لیکس کے مالک کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہیں اور یہی نہیں بلکہ ان سے عراق اور افغانستان میں اتحادی افواج کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے‘۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک سابق اہلکار ایرون ملر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان انکشافات سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کوئی بھی وکی لیک بنیادی یا ڈرامائی طور پر امریکہ اور اس کے مشرقِ وسطٰی یا دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے اتحادی ممالک کے باہمی تعلقات کو تبدیل نہیں کر سکتی‘۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں ان انکشافات کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے جبکہ وزارتِ دفاع نے اخبارات کے مدیران پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات شائع کرتے ہوئے ’ان کے قومی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کو مدِنظر رکھیں‘۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ان پیغامات کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ حکومتیں کسی راز کے راز رہنے کی بنیاد پر کام کر سکیں۔

بھارتی فوج کی صلاحیت پر شبہات

بھارتی فوج کی صلاحیت پر شبہات

فائل فوٹو
بھارت کے حوالے سے ابھی اور انکشافات آنے باقی ہیں
وکی لیکس کے انکشافات کےمطابق بھارت نے پاکستان کو کسی دہشتگرد حملے کی سزا دینے کےلیے جو ’کولڈ سٹارٹ‘ نامی فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اس پر امریکی سفارتکاروں نے بھارتی فوج کی صلاحیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق امریکی سفارتکاروں نے پاکستان پر حملے کی بھارتی تیاری جسے ’کولڈ سٹارٹ‘ کا نام دیا گیا تھا، کا تجزیہ کیا تھا۔
ایک مراسلے میں لکھا ہے کہ وہ بھارت کےاس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ اگر پاکستان کی طرف سے بھارت کو اشتعال دلایا گیا تو وہ پاکستان پر تیز رفتار حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مشن کےخیال میں بھارت کی موجودہ فوجی صلاحیت کی روشنی میں اس طرح کی حکمت عملی کے ملےجلے نتائج ہوں گا۔ ’بھارتی فوج کو اپنی ابتدائی پیش رفت کو مستحکم کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔‘
اس مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت حکومت ’کولڈ سٹارٹ‘ فوجی عملی پر عمل کرنے میں ناکام رہی اور اس بات سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت اس حکمت عملی پر عملدرآمد کرنے پر شاید آمادہ نہ ہو۔
امریکی مراسلے میں کہاگیا ہے کہ کولڈ سٹارٹ کسی جامعہ فوج کشی اور پاکستان پر قبضے کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ محدود اور تیز رفتار حملے کی حکمت عملی ہے۔ اس فوجی حکمت عملی کے تحت فوج کشی کو اس حد تک نہیں لے جانا جہاں پاکستانی ریاست کے وجود کو خطرات لاحق ہو جائیں یا پاکستان جوہری ہتھیار استعمال کرے۔
گارڈین ان اداروں میں شامل ہے جنہیں وکی لیکس نے امریکی سفارتکاروں کےتقریباً ڈھائی لاکھ خفیہ مراسلوں تک رسائی فراہم کی ہے۔
نڈین قیادت کو بلا شبہہ اس بات کا احساس ہے کہ اگرچہ کولڈ سٹارٹ کا مقصد پاکستان کو محدود انداز میں سزا دینا ہے تاکہ نوبت جوہری اسلحہ کے استعمال تک نہ پہنچ جائے، لیکن وہ یہ مان کر نہیں چل سکتے کہ پاکستان اپنا جوہری اسلحہ استعمال نہیں کرے گا۔
لیکن دلی میں امریکہ کے سفیر ٹموتھی رومر کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا ’ کولڈ سٹارٹ‘ پر عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد پہلی مرتبہ جوہری بم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ٹموتھی رومر کے مطابق ’ کولڈ سٹارٹ پر نہ کبھی عمل کیا گیا ہے اور شاید وسائل کی کمی کی وجہ سے نہ کبھی کیا جاسکے ۔۔۔ اس کا مقصد بہّترگھنٹے کے اندر جوابی کارروائی کرنا ہے لیکن پاکستان پر باقاعدہ حملہ یا قبضہ کرنا نہیں۔‘
اسلام آباد میں امریکی سفارتکاروں کو بتایا گیا کہ پاکستان ایسے چھوٹے جوہری بم تیار کر رہا ہے جو میدان جنگ میں انڈین فوج کے خلاف استعمال کیے جاسکیں۔
فائل فوٹو
امریکی سفارت کاروں نےکافی معلومات جمع کی ہیں
دیگر مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ ممبئی پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد برطانوی سفارتکاروں کو خطرہ تھا کہ انڈیا ’قوت کے ساتھ‘ جوابی کارروائی کرے گا لیکن امریکی سفارتکار اس تجزیے سے متفق نہیں تھے۔
گارڈین کے مطابق برطانوی افسران کے پاس اس بات کے شواہد تھے کہ لشکر طیبہ مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے اور ان کا خیال تھا کہ ایسی صورت میں انڈیا سفارتکاری کے بجائے طاقت سے جواب دے گا۔
ایک مراسلے کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ، جو ان حملوں کے وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے، انڈین حکومت کی جانب سے کافی ٹال مٹول کے بعد وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بات چیت کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اسلام آباد میں برطانوی سفارتکاروں کا خیال تھا کہ ملک میں جوابی کارروائی کے مطالبات کے آگے جھکتے ہوئے انڈیا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں پر فضائی حملے کرسکتا تھا۔
لیکن امریکی سفارتکاروں نے کہا کہ ان کے خیال میں برطانوی اہلکاروں کا تجزیہ درست نہیں ہے اور وہ ’اوور ری ایکٹ‘ کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اس خیال سے متفق تھے کہ پاکستان کو لشکر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔
اخبار کے مطابق اسی پس منظر میں ملی بینڈ اور اسلام آباد میں برطانیہ کے ہائی کمشنر رابرٹ بلنکلی نے پاکستان پر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو انڈیا بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
لیکن صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا کیونکہ انہیں پہلے رائے عامہ ہموار کرنی ہوگی اور یہ کہ برطانیہ کو انڈیا میں جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔